4 اپریل 2012 - 19:30

پاؤں پر مسح کرنے کا مسئلہ، ان اعتراضات میں سے ایک ہے جو بعض اہل سنت کے علماء نے اہل تشیع اور مکتب اہل بیت (ع) کے پیروکاروں پر عائد کئے ہیں۔ ان کی اکثریت کے حکم کے مطابق پاؤں کو دھولینا واجب ہے اور پاؤں پر مسح کو کافی نہیں سمجھتے۔

گذشتہ سے پیوستہ

درج ذیل دو حدیثیں ملاحظہ ہوں:

1۔ صحیح مسلم کی حدیث

صحیح مسلم میں منقول ہے کہ معاویہ نے سعد بن ابی وقاص کو حکم دے کہا: "علی (علیہ السلام) پر سب و لعن کرو"، (کیونکہ سعد حقیقتاً ایسا کرنے سے پرہیز کیا کرتے تھے)، سعد نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے علی (ع) کے لئے تین فضیلتیں سنی ہیں جنہیں میں کبھی بھی نہیں بھولوں گآ اور اگر ان تین میں سے صرف ایک فضیلت میرے لئے مختص ہوتی تو میں اس کو دنیا کے تمام خزانوں اور مال و دولت پر ترجیح دیتا۔ سعد نے اس کے بعد جنگ تبوک کے واقعے کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اس جنگ کے لئے نکلتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی (ع) سے فرمایا:

"اما ترضى ان تكون منى بمنزلة هارون من موسى"؛ (کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہوتے کہ آپ کی نسبت مجھ سے وہی ہو جو ہارون کو موسیٰ سے تھی)؛ اور سعد نے خیبر کی داستان سنائی اور خیبر میں اس اہم جملے کی یادآوری کی جو رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم کے جملے کی طرف اشارہ کیا اور اس کے بعد مباہلہ کی داستان سنائی۔ (22)

اس حدیث سے سے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی مخالفت پر معاویہ کے اصرار کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

2۔ وضع حدیث

متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی پہلی صدی میں دو گروہوں نے احادیث وضع (جعل) کی ہیں:

1۔ ایک گروہ ان لوگوں پر مشتمل تھا جو بظاہر صالح و زاہد (لیکن سادہ لوح) تھے جو قربت خداوندی کی نیت ے احادیث وضع کرتے تھے۔ مجموعی طور پر یہ لوگ بظاہر مؤمن اور دیندار تھے جو (مثلاً) لوگوں کو تلاوت کی ترغیب دلانے کے لئے سورتوں کی فضیلت میں عجیب و غریب، احادیث گھڑتے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منسوب کرتے تھے! اور افسوسناک امر یہ ہے کہ ان افراد کی تعداد بھی کافی زیادہ تھی۔

اہل سنت کے مشہور عالم القرطبی اپنی کتاب التذکار کے صفحہ 155 میں رقمطراز ہیں: ان روایات کا کوئی اعتبار نہیں ہے جو جھوٹی حدیثیں جعل کرنے والے افراد نے قرانی سورتوں کی فضیلت کے بارے میں وضع کی ہیں۔ ایک بڑی جماعت نے نہ صرف قرآن مجید کی سورتوں کے کی فضیلت میں اس عمل کا ارتکاب کیا ہے بلکہ دیگر اعمال کی فضیلت کے حوالے سے بھی احادیث وضع کی ہیں اور یہ سب کچھ قرب الہی کے حصول کی نیت (!) سے کیا ہے اور گماں کیا ہے کہ گویا وہ لوگوں کو اعمال کی فضیلت کی جانب بلا رہے ہیں! (اور یہ لوگ جھوٹ جیسے عظیم گناہ کو زہد و فقاہت کے منافی نہیں سمجھتے تھے)۔

اسی عالم (القرطبی) نے (التذکار کے) کے اگلے صفحے (156) پر "حاکم نیسابوری" اور اپنے بعض مشائخ و اساتذہ سے نقل کیا ہے کہ ایک زاہد شخص نے رضاکارانہ طور پر (قربت الہی کے حصول کی نیت سے) قرآن اور اس کی سورتوں کی فضیلت کے سلسلے میں احادیث وضع کیں۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ "تم نے ایسا کیوں کیا؟"، تو کہنے لگا: "میں نے دیکھا کہ قرآن کی طرف لوگوں کی توجہ کم ہوگئی ہے میں چاہتا تھا کہ ان کی رغبت میں اضافہ کروں"۔ اور جب اس سے کہا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ "من كذب علي فليتبوأ مقعده من النار"(23) (جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے اس نے دوزخ میں اپنا ٹھکانا تیار کرلیا ہے)، اس شخص نے جواب دیا: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے: " من كذب علىّ...، یعنی جو میرے خلاف جھوٹ بولے ... جبکہ میں سب جھوٹ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حق میں بولتا ہوں!!۔

قرطبی اس قسم کی حدیثیں نقل کرنے میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ اہل سنت کے دوسرے علماء نے بھی اس قسم کی حدیثیں نقل کی ہیں۔ (مزید تفصیل جاننے کے لئے علامہ عبدالحسین امینی رحمۃاللہ علیہ کی عمدہ کتاب (الغدیر کی پانچویں جلد میں "وضّاعین اور کذّابین" کی بحث کی طرف رجوع فرمائیں)۔

وضاعین اور جاعلین کا ایک گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جنہوں نے معاویہ سے بڑی بڑی رقوم لے کے بنو امیہ کی فضیلت اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی مذمت میں حدیثیں وضع کیں۔ ان ہی لوگوں میں ایک کا نام "سمرہ بن جُندب" ہے جس نے معاویہ سے چار لاکھ درہم وصول کئے اور علی علیہ السلام کی مذمت اور آپ (ع) کے قتل کی مداحی حدیث وضع کی اور کہا: سورہ بقرہ کی آیت "وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللّهِ" (24) علی (ع) کے قاتل عبدالرحمن بن ملجم مرادی کی شان میں نازل ہوئی ہے! اور اسی سورت کی آیت "وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ..." (25) علی (ع) کی مذمت میں نازل ہوئی ہے۔ نعوذ بالله من هذه الأكاذيب۔

چنانچہ یہ بات ہرگز حیرت انگیز نہیں ہے کہ معاویہ نے علی علیہ السلام کی مخالفت میں پیروں کے مسح کے خلاف بھی احادیث وضع کروائی ہوں

جوتوں پر مسح عقل و شرع کی میزان پر

جیسا کہ اس سے قبل اشارہ ہوا جو لوگوں وضو میں پیروں پر مسح کی مخالفت پر اصرار کرتے ہیں اور غَسل (پیروں کو دھونے کے عمل) کو واجب سمجھتے ہیں وہ جوتوں پر مسح کی اجازت بھی دیتے ہیں اور اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منقولہ بعض احادیث سے استناد کرتے ہیں۔

حالانکہ اہن بیت علیہم السلام کی احادیث اس عمل کی نفی کرتی ہيں اور اہل سنت کے معتبر منابع حدیث میں بھی معتبر احادیث منقول ہیں جو کلی طور پر اس عمل کی مخالفت کررہی ہیں۔

توضیح: احادیث اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کرنے والے امامیہ فقہاء کا اجماع ہے کہ جوتوں کا مسح مطلقاً (اور کسی صورت میں بھی) جائز نہیں ہے لیکن اہل سنت کے بہت سے فقہاء نے سفر میں بھی اور حَضَرْ میں بھی اس عمل کی اجازت دے رکھی ہے گوکہ بعض نے جوتوں کے مسح کو صرف ضرورت کے مواقع پر واجب جائز قرار دیا ہے۔

یہاں بعض سوالات اٹھتے ہیں:

1۔ پاؤں کا مسح ناجائز تو جوتوں کا کیوں جائز؟

پیروں کا مسح کیونکر جائز نہيں ہے جبکہ جوتوں کا مسح جائز ہے؟ حالانکہ جب پیروں کے مسح کی بات آتی ہے تو کہتے ہیں کہ پاؤں آلودہ اور گندے ہوتے ہیں، بہتر ہے کہ دھولئے جائیں، بجائے اس کے، کہ ان کا مسح کیا جائے!

کیا گندے اور آلودہ جوتوں کا مسح، پاؤں دھونے کی جگہ لے سکتا ہے؟ اہل سنت کے بہت سے فقہاء پیروں کو دھونے یا پھر جوتوں پر مسح کرنے میں تخییر () کے قائل ہیں (اور کہتے ہیں کہ یا تو پیر دھولئے جائیں یا پھر جوتوں کا مسح کیا جائے)۔

2۔ ظاہر قرآن کی مخالفت کیوں؟

ظاہرِ قرآن سر اور پاؤں پر مسح کرنے کا حکم دیتا ہے لیکن یہ حضرات ظاہر قرآن کو چھوڑ کر جوتوں کے مسح کے قائل کیوں ہوئے؟

3۔ اہل بیت (ع) کی روایات کو ترک کیوں کیا؟

تیسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ آپ اہل بیت علیہم السلام کی روایات کو مدنظر نہیں رکھتے جنھوں نے متفقہ طور پر "مسحِ خفین" (جوتوں کے مسح) کی نفی کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے (حدیث ثقلین کے ضمن میں)